اسلامی جمہوریہ پاکستان🇵🇰
اسلامی جمہوریہ پاکستان
جنوبی ایشیا کا ایک ملک، جسے "جنوبی ایشیائی جمہوریہ پاکستان" بھی کہا جاتا ہے، برصغیر پاک و ہند کے شمالی حصے میں واقع ایک ریاست ہے۔ یہ پہلے 1947 تک برطانوی راج کے نام سے جانا جاتا تھا جب اس کے سابق حکمران، ہندوستان کے بادشاہ جارج ششم نے اسے "پاکستان" کا موجودہ نام دیا۔ برطانوی راج سے اپنی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے اس وقت کے پاکستان کے بادشاہ نے برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت 1947 میں پاکستان کا تسلط قائم ہوا۔
اس ملک کی بنیاد بابر علی جناح نے رکھی تھی، جنہوں نے 1919 سے لے کر 1948 میں ان کے قتل تک حکومت کی۔ اگرچہ اس دوران آئین اور قوانین بنائے گئے، لیکن یہ ملک 1947 میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے تک انگریزوں سے آزاد تھا، اور آزاد رہا۔ 1956 میں برطانوی حکمرانی کی واپسی تک۔ اسی سال، حکومت پاکستان نے اسے سرکاری طور پر اسلامی ریاست سے الحاق کا اعلان کیا اور تب سے مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے سب سے زیادہ آواز اور سیاسی طور پر سرگرم قوموں میں سے ایک ہے۔
پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہے اور اس ملک میں 10 لاکھ سے زیادہ مسلمان پیروکار ہیں، جو اسلام اور اپنے رہنما، پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔ پاکستان اور جنوبی ایشیا کے بہت سے دوسرے ممالک میں لوگوں کی اکثریت ہندو، بدھ، عیسائی، یا ملحد ہے۔ مسلمان آبادی کا 8 فیصد سے زیادہ ہیں اور ہندو تقریباً 5 فیصد ہیں۔ موجود دیگر مذاہب میں جین، عیسائی، ہندو، عیسائی، بدھ مت، یہودی اور دیگر شامل ہیں۔ پاکستان میں تمام نسلی گروہ پرامن طور پر ایک ساتھ رہتے ہیں۔ پاکستان میں سب سے بڑی مسیحی برادری مراٹھی برادری ہے جس کے ارکان کی تعداد 50,000 بتائی جاتی ہے۔ اس خطے میں ایک کروڑ سے زیادہ پنجابی آباد ہیں۔
پاکستان کو دو بڑے جغرافیائی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، یعنی شمالی اور مغربی پاکستان۔ دونوں علاقے متنوع آبادیوں سے آباد ہیں، جن میں مختلف نسلی گروہ، ثقافت، زبانیں اور روایات شامل ہیں۔
پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد لاہور کے جنوب میں واقع ہے۔ مغربی پاکستان کا دارالحکومت کوئٹہ ہے جو کہ افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر واقع ہے۔ خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت کے شہر سوات، چترال، کوہستان اور باجوڑ ہیں۔ صوبے کے تین اہم صوبے پنجاب، سندھ اور بلوچستان ہیں۔
پاکستان کا سیاسی نظام اور حکمرانی
پاکستان ایک وفاقی پارلیمانی جمہوریہ ہے، جس میں دو ایوانوں والی پارلیمنٹ دونوں ایوان بالا پر مشتمل ہے، جو قومی اسمبلی کے نام سے جانا جاتا ہے، اور ایوان زیریں، جسے سینیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ متناسب نمائندگی کے نظام کی وجہ سے دونوں ایوانوں میں مساوی نمائندگی ہے لیکن مساوی طاقت نہیں ہے۔ ایوان نمائندگان کے ہر رکن کا انتخاب آبادی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، ہر صوبے کا پارلیمنٹ میں ایک نمائندہ ہوتا ہے۔ تاہم، قومی اسمبلی کے پاس کوئی خاص اختیار نہیں ہے کیونکہ صدر کو قانون کے ذریعے اضافی اختیارات دیئے گئے ہیں۔ ملک میں عدالتی معاملات کے لیے الگ سپریم کورٹ بھی ہے۔ فوج اور پولیس حکومت کے بنیادی ہتھیار ہیں، اور ان پر بدعنوانی اور بدانتظامی کی وجہ سے اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
پاکستان کا آئین اسلام اور غیر اسلام دونوں کو ملک کے سرکاری مذاہب کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، آئین کا آرٹیکل 15 کہتا ہے کہ "ریاست کا سربراہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا صدر ہو گا،" جبکہ آرٹیکل 36 کہتا ہے کہ "مسلمان آبادی کی اکثریت ہیں۔" یہ امتیاز شریعت میں بھی نظر آتا ہے، جہاں ملک کا حکمران نظریہ اسلام ہے۔
پاکستان میں روزمرہ کی زندگی میں مذہب ایک بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ لوگوں کو عوامی مقامات، جیسے مساجد، مندروں اور مزارات پر اپنے عقیدے پر عمل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ پاکستان میں خواتین کے لیے لباس کے سخت تقاضے ہیں، اور مردوں کو عوامی تقریبات کے دوران اوڑھنا یا ماسک پہننا چاہیے۔ مذہبی اقلیتوں کو کام، اسکول یا کالج میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں، حکومت نے اقلیتوں کی رسائی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن میں تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور سماجی خدمات تک رسائی کو بڑھانا شامل ہے۔ اس کے نتیجے میں، ملک نے کئی سنگ میل حاصل کیے ہیں، جن میں بچوں کی شرح اموات میں کمی، زچگی کی صحت کو بہتر بنانا، اور پسماندہ کمیونٹیز کو مالی استحکام فراہم کرنا شامل ہے۔ ان کوششوں کے باوجود، کچھ افراد کو اب بھی امتیازی سلوک کا سامنا ہے، جن میں خواتین اور LGBTQ+ کمیونٹی کے اقلیتی ارکان بھی شامل ہیں۔
ایک ترقی پذیر ملک کے طور پر، پاکستان کو صنفی عدم مساوات کے مسائل کا سامنا ہے، خاص طور پر تعلیم اور روزگار کے مواقع تک رسائی سے متعلق۔ خواتین پاکستان میں تمام گریجویٹس میں سے تقریباً نصف کی نمائندگی کرتی ہیں اور جی ڈی پی کے تقریباً نصف کی ذمہ دار ہیں۔ بہت سے پاکستانیوں کا خیال ہے کہ ایک پرجوش کیریئر کی راہنمائی کرنے کے مواقع کی کمی انہیں غربت اور محرومی کی راہوں پر لے جاتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی، پاکستان میں خواتین کو ملازمتوں کی تلاش اور روزگار کے حصول میں اکثر چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یونیسیف کے مطابق، 2019 میں، صرف 25 فیصد خواتین تنظیموں اور فرموں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھیں۔
Comments
Post a Comment